ابنا: لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ نزیہ منصور نے مزید کہا کہ یورپی اور عربی اخبارات و جرائد نے چند سال قبل ہی اس عدالت کے فیصلے سے پردہ اٹھا دیا تھا۔ جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ فیصلہ کئی سال پہلے ہی کرلیا گيا تھا۔ نزیہ منصور نے مزید کہا کہ بین الاقوامی عدالت کے ابتدائي فیصلے کو لبنان کی حکومت اور ملت پر مسلط کرنے اور لبنان کی حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسے امریکہ کا پیرو ہونا ہوگا۔ نزیہ منصور نے مزید کہاکہ لبنان کی حکومت نے اپنے ایک بیان میں واضح کردیا ہےکہ وہ اپنے ملک کے قومی مفادات ، استحکام اور سلامتی کے لۓ خطرہ ثابت ہونے والے امریکی فیصلوں کو ہر گز قبول نہیں کرے گی۔ بہرحال رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کے ابتدائي فیصلے میں لبنان کی استقامت کے چار اراکین پر فرد جرم عائد کی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کا حکم دیا گيا ہے ۔ یہ فیصلہ لبنان کی حکومت کو پیش کردیا گيا ہے۔ لبنان کے ذرائع ابلاغ نے رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کے فیصلے میں بیان شدہ حزب اللہ لبنان سے وابستہ چار افراد کےنام کا ذکر کرتے ہوۓ اس عدالت کے فیصلے کا مقصد لبنان میں داخلی اختلافات پیدا کرنا بتایا ہے۔ لبنان کے رکن پارلیمنٹ مروان فارس نے بھی رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کے فیصلے کو لبنان میں بحران پیدا کرنے کی امریکہ اور اس کےعلاقائی اتحادیوں کی سازش قرار دیا ہے۔ مروان فارس نےکہا ہےکہ رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل ایک سیاسی عدالت ہے جو اقوام متحدہ سے وابستہ ہے اور خود اقوام متحدہ کے ادارے پر بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کنٹرول اور تسلط ہے ۔ مروان فارس نے مزید کہا کہ رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کا فیصلہ ایک خاص سیاسی جماعت کو نشانہ بنانےکے لۓ جاری کیا گيا ہے اس لۓ یہ ایک غیر منصفانہ فیصلہ ہے۔ مروان فارس نے مزید کہاکہ لبنان کے عوام رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کے اس فیصلے کوئي اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ مروان فارس نے یہ بھی کہا کہ رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل کا ایک وفد دمشق گيا تاکہ شام کے چند افراد کے نام شام کی حکومت کو پیش کرے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ اس ٹریبیونل نے خطے میں یورپ کے مفادات کے حصول کے لۓ شام اور لبنان کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے۔ مروان فارس نے مزید کہا کہ رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل جب تک سیاسی بنیادوں پر عمل کرے گا اس وقت تک رفیق حریری کے قتل کے حقائق سامنے نہیں آ پائيں گے۔ لبنانی وزیر فیصل کرامی نے بھی کہا ہے کہ رفیق حریری قتل کیس ٹریبیونل صیہونی حکومت کے مقاصد کی تکمیل کے درپے ہے۔ لبنان کے وزیر کھیل فیصل کرامی نے مزید کہا ہےکہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل سے لے ان کے قتل کے بارے میں تحقیقات کرنے والے ٹریبیونل کے قیام اور اس کے فیصلے تک کے تمام واقعات اسرائيل کے مفاد میں ہیں ۔ فیصل کرامی نے لبنانیوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ اتحاد کی بدولت ہی غیر ملکی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز